بھٹکل 9/ ستمبر(ایس او نیوز) بھٹکل کے کارگیدے کا رہائشی 17 سالہ لڑکا شرالی کے ایک بڑے اور گہرے تالاب میں غرق ہوکرجاں بحق ہوگیا جس کی شناخت زُبیرانس علی اکبرا ابن ارشاد علی اکبرا کی طورپرکی گئی ہے۔
جمعہ صبح قریب سات بجے کارگیدے کے قریب دس لڑکے انجمن کالج گراونڈ میں بیڈمینٹن کھیلنے کے لئے گئے تھے، قریب نو بجے اُس میں سے تین لڑکے شرالی میں تیرنے کی غرض سے چلے گئے۔ پتہ چلا ہے کہ شرالی تالاب میں دیگرعلاقوں کے بھی پانچ چھ لڑکے پہلے سے موجود تھے۔
صبح قریب دس بجے زُبیرنے تالاب میں جب چھلانگ لگائی تو پھروہ اوپر ہی نہیں آیا۔ تالاب میں پہلے سےموجود لڑکوں نے اسے بچانے کے لئے کوششیں کرنے لگے، مگرجب کوششیں رائیگاں جانے لگی تو شہر کے نوجوانوں سے مدد طلب کی گئی۔
بھٹکل شمس الدین سرکل سے قریب چھ کلو میٹر دور شرالی کے نیلکنٹا ہُولّوّکی نامی جنگلاتی علاقہ میں واقع قریب 25/30 فٹ گہرے پانی سے بھرے اس تالاب میں لڑکے کے ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی کثیر تعداد میں لوگ پہنچ گئے جسمیں سے تیراکی میں ماہر نوجوانوں نے پورے ڈیڑھ گھنٹے کی تلاشی مہم چلاتے ہوئے کافی مشقتوں کے بعد تالاب میں غٖرق نوجوان کی نعش کو باہر نکالا۔
تالاب میں غرق لڑکے کو باہر نکالنے میں تیمور گوائی، عاکف گوائی، حساّن سدی باپا، عبدالباقی، عبدالباسط معلم، حساّن، آیاز گوائی، عکرما موٹیا، حسن، فوزان ودیگر نوجوانوں کی کوششیں لائق ستائش رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکا غالباً صبح دس بج کر پانچ منٹ پر غرق ہوا تھا، اطلاع ملتے ہی قریب 10:20بجے تیراکی میں ماہر نوجوان جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے اور ریسکیو آپریشن چلایا تھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارے نوجوان ماہر تیراک ضرور ہیں، مگر ہمارے پاس ریسکیو کرنے کے لئے کوئی آلات یہاں تک کہ رسی تک نہیں ہے، ہم نے فوری طور پر پولس سمیت فائر بریگیڈ اور تعلقہ انتظامیہ سے مدد مانگی تھی۔ پولس تو اطلاع ملتے ہی پہنچ گئی، فائر بریگیڈ کا عملہ قریب 11:30 بجے پہنچا، جس کے بعد ہم نے اُن کے پاس موجود رسی اور ہُوک کی مدد سے لڑکے کی نعش کوباہر نکالا۔ جائے وقوع پر سماجی کارکنان محمد صادق مٹّا، بلال قمری اور ارشاد صدیقہ سمیت کافی دیگرنوجوان موجود تھے۔
پتہ چلا ہے کہ لڑکا ابتدا سے ہی اپنے والدین کے ساتھ سعودی عربیہ کے الخوبر میں رہتا تھا، گذشتہ دو سالوں سے لڑکا اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ بھٹکل میں مقیم تھا اورانجمن کالج میں پی یوسی فرسٹ اِئیر سائنس کا طالب علم تھا۔ پتہ چلا ہے کہ لڑکے کی موت کی اطلاع ملتے ہی والد جناب ارشاد علی اکبرا بھٹکل کے لئے نکل رہے ہیں اوردیر رات تک بھٹکل پہنچنے کی توقع ہے۔ گھروالوں نے خبردی ہے کہ مرحوم زُبیر کی نماز جنازہ سنیچر بعد نمازفجر نوائط کالونی تنطیم جمعہ مسجد میں ادا کی جائے گی اور نوائط کالونی قبرستان میں ہی تدفین عمل میں آئے گی۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بھٹکل میں سوئمنگ کے لئے کافی جگہیں موجود ہیں، بندر روڈ پر سوئمنگ پول بھی موجود ہے، مگر اس کے باوجود شہر سے کافی دور درازاور غیر معروف علاقوں میں بھٹکل کے اکثر نوجوان تیرنے کے لئے جاتے ہیں، جہاں کچھ انہونی ہونے پر فوری طورپرمدد کے لئے پہنچ پانا بھی مشکل ہوجاتا ہے، شہر سے کافی دور شرالی کے اس تالاب کے تعلق سے پولس نے بتایا کہ بارش ہونے پر یہاں پانی بھرجاتا ہے، یہاں پر پانی ہمیشہ رُکا ہوا رہتا ہے۔ تالاب کے اطراف رہنے والےلوگوں نے بتایا کہ بھٹکل سے اکثر 15/16 سال کے لڑکے یہاں تیرنے کے لئے آتے ہیں اور قریب 20 فٹ اونچائی سے اس تالاب میں چھلانگ لگاتے ہیں، لوگوں نے بتایا کہ ہم نے کئی بار اُنہیں روکنے کی کوشش کی، مگر مسلم نوجوان ہماری باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔
نوجوان کے غرق ہوکر جاں بحق ہونے کی اطلاع ملتے ہی مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، عنایت اللہ شاہ بندری، مصباح الحق شیخ اورکافی دیگر ذمہ داران بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچے اوررشتہ داروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔
اسپتال میں میت کا دیدار کرنے کے بعد بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے صدرعزیزالرحمن رکن الدین ندوی نے اعتراف کیا کہ ہمارے نوجوان ماہر تیراک ہیں اور وقت پر دوسروں کی مدد کے لئے فوری پہنچ بھی جاتے ہیں، مگر ہمارے پاس ریسکیو کے ضروری آلات نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس تعلق سے فوری اقدام لیتے ہوئے دبئی سے ریسکیو کے لئے درکار تمام ضروری آلات کا آرڈر دے دیا ہے اورتوقع ہے کہ کچھ ہی دنوں میں یہ تمام چیزیں بھٹکل پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے 17سالہ لڑکے کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور گھروالوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نےفیڈریشن کے نوجوانوں کے بروقت جائے وقوع پر پہنچ کرغرق لڑکے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے اوربالاخر نعش کو باہر نکالنے پر تمام نوجوانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔